22764- عن عمرو بن شعيب قال: قال عبد الله: "جمع لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقيما غير مسافر بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء فقال رجل لابن عمر: لم ترى النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك؟ " قال: "لأن لا يحرج أمته إن جمع رجل". "عب".
22764 ۔۔۔ عمرو بن شعیب عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقیم ہوتے ہوئے ہمارے لیے ظہر وعصر کی نماز جمع کر کے پڑھی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسافر نہیں تھے اس کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز بھی جمع کر کے پڑھی ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت عذر میں کسی قسم کی حرج (تنگی) نہ محسوس کرے (روا عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ حنفیہ کے نزدیک جمع بین الصلوتین کسی طرح جائز نہیں سوائے عرفات میں ظہر وعصر اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے اور جن احادیث میں جمع بین الصلوتین کا ذکر آیا ہے ان میں تاویل کی گئی ہے جیسا کہ احادیث میں آئے گا کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے جمع حقیقی نہیں ۔ مثلا ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل ابتدائی وقت میں پڑھ لی جائے یوں اس طرح جمع بین الصلوتین ہوجائے گا جو کہ صورۃ جمع ہے حقیقۃ نہیں ۔