22776- عن ابن عباس قال: "ألا أخبركم عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر؟ كان إذا زاغت الشمس في منزله جمع بين الظهر والعصر قبل أن يركب، وإذا لم تزغ له في منزله ركب حتى إذا كانت العصر نزل فجمع بين الظهر والعصر وإذا حانت المغرب وهو في منزله يجمع بينها وبين العشاء، وإذا لم تحن له في منزله ركب حتى إذا حانت العشاء نزل فجمع بينهما". "عب وابن جرير".
22776 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوران سفر کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟ چنانچہ اگر آپ گھر پر موجود ہوتے کہ سورج زائل ہوجاتا (یعنی زوال کا وقت گزر جاتا) تو آپ کوچ کرنے سے قبل ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر گھر میں زوال کا وقت نہ ہوچکا ہوتا تو کوچ کر جاتے حتی کہ جب عصر کا وقت (قریب) ہوتا تو اترتے اور ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے اگر مغرب کا کا وقت ہوجاتا دراں حالیکہ آپ گھر پر ہی ہوتے (یا کسی ٹھکانے پر ہوتے) تو مغرب و عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھ لیتے اور اگر گھر پر (ٹھکانے پر) ہوتے کہ مغرب کا وقت ابھی تک نہ ہوا ہوتا تو کوچ کر جاتے اور جب عشاء کا وقت قریب ہوتا تو نزول کرتے اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے (رواہ عبدالرزاق، وابن جریر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے ، دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 2204 وضعاف دارقطنی 339 ۔