22795- عن ثابت بن الحجاج قال: "خرج عمر بن الخطاب إلى الصلاة فاستقبل الناس فأمر المؤذن" فقام وقال: "والله لاننتظر لصلاتنا أحدا، فلما قضى صلاته أقبل على الناس" ثم قال: "ما بال أقوام يتخلفون يتخلف بتخلفهم آخرون، والله لقد هممت أن أرسل إليهم فيجاء في أعناقهم" ثم يقال: "اشهدوا الصلاة". "عب".
22795 ۔۔۔ ثابت بن حجاج کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے لیے تشریف لائے اور انھوں نے آگے سے لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا آپ (رض) نے موذن کو حکم دیا وہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا : بخدا ہم اپنی نماز کے لیے کسی کا انتظار نہیں کریں گے چنانچہ جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا وجہ ہے لوگوں نے ایسی روش پر چلنا شروع کردیا ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی آنے والے بھی ان کی روش پر چل دیں گے بخدا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کے پاس پولیس کے اہل کار بھیجوں جو ان کو گردنوں میں پھندے ڈال کرلے آئیں اور پھر ان سے کہا جائے کہ نماز میں حاضر ہوا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)