hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 22797

.

كنز العمال

22797
Kanz al-Ummal
22797- عن سليمان بن أبي حثمة عن الشفاء بنت عبد الله قالت: دخل على بيتي عمر بن الخطاب فوجد عندي رجلين نائمين فقال: وما شأن هذين ما شهدا معنا الصلاة؟ قلت يا أمير المؤمنين صليا مع الناس، وكان ذلك في رمضان، فلم يزالا يصليان حتى أصبحا وصليا الصبح وناما فقال عمر: لأن أصلي الصبح في جماعة أحب إلي من أن أصلي ليلة حتى أصبح. "عب".
22797 ۔۔۔ سلیمان بن ابو حثمہ روایت کرتے ہیں کہ شفاء بنت عبداللہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) میرے گھر پر تشریف لائے انھوں نے میرے پاس دو مردوں کو (جن میں سے ایک اس کا خاوند اور دوسرا بھائی یا بیٹا تھا (سوئے ہوئے دیکھا تو آپ (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے یہ دونوں ہمارے ساتھ نماز میں حاضر کیوں نہیں ہوئے ؟ میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! انھوں نے (رات کو) لوگوں کے ساتھ نماز (تراویح) پڑھی تھی (یہ رمضان کا مہینہ تھا) اور پھر صبح تک مسلسل نماز پڑھتے رہے اور پھر انھوں نے صبح کی نماز گھر پر پڑھی اور سو گئے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : بخدا ! میرا صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لینا مجھے رات بھر نماز میں مشغول رہنے سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)