hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 22811

.

كنز العمال

22811
Kanz al-Ummal
22811- عن أبي قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الغداة فلما قضى الصلاة رأى من أهل المسجد قلة قال: "شاهد فلان؟ " قلنا: "نعم حتى عد ثلاثة نفر" - وفي لفظ - قال: "أها هنا فلان؟ " قالوا: نعم، ثم سأل عن آخر فقالوا: نعم، فقال: إنه ليس من صلاة أثقل على المنافقين من صلاة العشاء الآخرة، ومن صلاة الفجر، ولو تعلمون ما فيه لابتدرتموه واعلموا أن صلاة الرجل مع الرجل أفضل من صلاته وحده، وأن صلاة الرجل مع ثلاثة أفضل من رجلين وما كان أكثر فهو أحب إلى الله". "ض، ش".
22811 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب نماز مکمل کی تو مسجد والوں کو قلیل سمجھ کر فرمایا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فلاں حاضر ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ، حتی کہ تین آدمیوں کے متعلق دریافت کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا یہاں فلاں آدمی موجود ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا جی ہاں ، پھر ایک اور آدمی کے متعلق پوچھا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ھاں وہ بھی موجود ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ منافقین پر فجر اور عشاء کی نماز بہت گراں گزرتی ہے۔ اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ ان میں کیا ہے لامحالہ تم ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ، جان لو دو آدمیوں کی نماز اکیلے آدمی کی نماز سے افضل ہوتی ہے اور تین آدمیوں کی باجماعت نماز دو آدمیوں کی نماز سے افضل ہے : آدمی جتنے زیادہ ہوں گے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں۔ (رواہ الضیاء المقدسی فی المختارہ و ابن ابی شیبۃ)