22813- "أيضا" كان رجل من الأنصار بيته أقصى بيت في المدينة، فكان لا تخطئه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوجعت له، فقلت له: يا فلان لو أنك اشتريت حمارا يقيك من الرمضاء ويقيك من هوام الأرض؟ قال: "أما والله ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه وسلم فحملت به حملا أتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فدعاه" فقال له: "مثل ذلك، وذكر أنه يرجو في أثره الأجر،" فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "إن لك ما احتسبت". "ط م هـ"
22813 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) روایت کرتے ہیں انصار کا ایک آدمی تھا جس کا گھر مدینہ میں سب سے زیادہ دور تھا ، اس کی کوئی بھی نماز جماعت سے خطا نہیں ہوتی تھی اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتا تھا میں نے اس سے کہا : اے فلاں آدمی تو کوئی گدھا خرید لے جو تمہیں سخت گرم سنگریزوں اور حشرات الارض سے بچائے گا ، اس نے کہا : بخدا مجھے پسند نہیں کہ میرا گھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے پہلو میں ہو اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سوار ہو کر حاضر ہوا کروں ( میں تو پیدل چل کر آؤں گا گو کہ کتنا ہی فاصلے پر ہوں) میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا ۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی بات کہی اور یہ بھی کہا کہ مجھے ایسا کرنے میں اجر وثواب کی امید ہے۔ اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس اجر وثواب کا ارادہ تم نے کیا ہے وہ تمہیں مل کر رہے گا ۔ (رواہ الطبرانی ومسلم وابن ماجہ)