22845- "مسند حذيفة رضي الله تعالى عنه" عن قتادة أن أبا سعيد مولى بني أسيد صنع طعاما ، ثم دعا أبا ذر وحذيفة وابن مسعود فحضرت الصلاة فتقدم أبو ذر ليصلي بهم فقال له حذيفة : وراءك رب البيت أحق بالامامة فقال له أبو ذر كذلك يا ابن مسعود ؟ قال : نعم فتأخر أبو ذر قال أبو سعيد : فقدموني وأنا مملوك فأممتهم.
(عب).
22845 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ (رض) “۔ قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ بنوامیہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید نے کھانا تیار کیا اور پھر ابوذر غفاری (رض) ، حذیفہ اور ابن مسعود (رض) کو دعوت دی یہ حضرات کھانا کھانے حاضر ہوگئے اتنے میں نماز کا وقت بھی ہوگیا اور حضرت ابوذر (رض) آگے بڑھ گئے تاکہ امامت کرائیں ابو حذیفہ (رض) بول پڑے کہ گھر کا مالک تمہارے پیچھے کھڑا ہے جو کہ امامت کا زیادہ حقدار ہے ابو ذر (رض) نے ابن مسعود (رض) سے پوچھا : اے ابن مسعود (رض) کیا مسئلہ یوں ہی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ، چنانچہ ابو ذکر (رض) پیچھے ہوگئے ابو سعید (رض) کہتے ہیں انھوں نے مجھے آگے بلایا حالانکہ میں غلام تھا اور میں نے ان کی امامت کرائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)