22860- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن أم مكتوم يوم غزوة تبوك، فكان يؤم الناس وهو أعمى. "عب".
22860 ۔۔۔ شعبی (رح) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت ابن ام مکتوم (رض) کو اپنا نائب مقرر کیا تھا اور وہی (مدینہ میں) لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حالانکہ وہ نابینا بھی تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ کتب فقہ میں نابینا کی امامت کو مکروہ کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نابینا کما حقہ طہارت و پاکیزگی کا خیال اس طرح نہیں رکھ سکتا جس طرح کہ بینا شخص رکھ سکتا ہے ، فقہی اصول ہمیشہ ہمیشہ کلیات کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں نہ کی جزئیات کو چنانچہ خارج میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر نابینے طہارت کا خیال نہیں رکھتے حتی کہ بعض اندھے تو ایسے بھی دیکھے ہیں کہ ان کے کپڑوں کے ساتھ پیشاب لگا ہوتا ہے اور انھیں خبر تک نہیں ہوتی ، بہرحال اگر ایک نابینا شخص عالم ہو حافظ وقاری ہو سنت سے واقفیت بھی رکھتا ہو اور طہارت و پاکیزگی کا کما حقہ خیال بھی رکھتا ہو اس کی امامت بلاشبہ کراہت سے خالی ہوگی بلکہ مستحسن ہے لیکن ہر نابینا بھی تو ابن ام مکتوم نہیں بن سکتا ، واللہ اعلم ۔