22911- عن أنس قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "والذي نفس محمد بيده لو رأيتم ما رأيت لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا؟ " قالوا: ما رأيت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: "رأيت الجنة والنار، وحرضهم على الصلاة ونهاهم أن يسبقوه إذا أمهم بالركوع والسجود، وأن يتفرقوا قبل انصرافه من الصلاة" ثم قال لهم: "إني أراكم من أمامي ومن خلفي". "ابن النجار".
22911 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد عربی کی جان ہے اگر تم نے وہ کچھ دیکھا ہوتا جو میں نے دیکھا ہے تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ ارشاد فرمایا : میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے ، نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز پر ابھارا اور رکوع و سجدہ میں سبقت کر جانے سے منع کیا نیز یہ کہ امام سے قبل نماز سے جانے والے مت بنو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : میں تمہیں سامنے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔ (رواہ ابن النجار)