22925 (أيضا) قال : أم معاذ قوما في صلاة المغرب فمر به غلام من الانصار وهو يعمل على بعير له فأطال بهم معاذ ، فلما رأى ذلك الغلام ترك الصلاة وانطلق في طلب بعيره ، فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم ،
فقال : أفتان أنت يا معاذ ؟ لا يقرأ أحدكم في المغرب إلا بسبح اسم ربك الاعلى ، والشمس وضحاها.
(ش) (1).
22925 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ (رض) نے ایک قوم کو مغرب کی نماز پڑھائی ان کے پاس سے ایک انصاری لڑکا گزرا وہ دن بھر اونٹ لیکر کسی کام میں مشغول رہا تھا وہ بھی نماز میں شامل ہوگیا چنانچہ جب حضرت معاذ (رض) نے بہت لمبی کردی تو نماز کو وہیں چھوڑ کر اونٹ کی طلب میں چل پڑا جب اس واقعہ کی خبر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو ؟ تم میں سے جو آدمی بھی مغرب کی نماز پڑھائے وہ صرف ” سبح اسم ربک الاعلی “۔ اور ” والشسم وضحاھا “۔ پڑھا کرے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسلم فی صحیہ)