22941- عن عمر بن الخطاب قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما صلاة الظهر فقرأ رجل من الناس في نفسه،" قال: "هل قرأ معي أحد منكم قال ذلك ثلاثا فقال له الرجل: نعم يا رسول الله أنا كنت أقرأ بسبح اسم ربك الأعلى،" قال: "ما لي أنازع القرآن أما يكفي أحدكم قراءة إمامه؟ إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا قرأ فأنصتوا". "ق في كتاب وجوب القراءة في الصلاة".
22941: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک مقتدی نے سرا قراءت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد فرمایا تم میں سے کس نے میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟ اور یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، اس آدمی نے کہا جی ہاں ! یا رسول اللہ میں نے سورة الاعلی کی قراءت کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے کیا ہوگیا کہ میں قرآن کے ساتھ جھگڑوں ! کیا امام کی قراءت تمہیں کافی نہیں ؟ امام تو بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ لہٰذا جب امام قراءت کرتے تو تم خاموشی سے سنو۔ بیہقی