22960- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة جهر فيها بالقراءة، ثم أقبل على الناس بعد ما سلم، فقال لهم: هل قرأ منكم معي أحد آنفا؟ قالوا: نعم يا رسول الله قال: "إني أقول: ما لي أنازع القرآن؟ فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يجهر به من القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب".
22960 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی اور اس میں جہرا قرات کی پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرات کی ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب ہی میں کہہ رہا ہوں کہ قرآن میں میرے ساتھ منازعت کیوں کی جا رہی ہے ؟ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب سے لوگوں نے یہ بات سنی اس وقت سے جہری نمازوں میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرات کرنے سے باز آگئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)