23003- "أيضا" خرجنا حتى قدمنا على نبي الله صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا خلفه فرأى رجلا يصلي خلف الصفوف فوقف عليه نبي الله صلى الله عليه وسلم حتى انصرف فقال: استقبل صلاتك فلا صلاة للذي خلف الصف. "ش".
23003 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم اپنے علاقہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی چنانچہ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو صفوں کے پیچھے دیکھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رک گئے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم دوبارہ نماز پڑھو چونکہ جو آدمی صف کے پیچھے کھڑا ہوجائے اس کی نماز نہیں ہوتی (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ صفیں بنانے میں یہ اصول ہے کہ ہر صف درمیان سے شروع کی جائے اور پھر دائیں بائیں سے برابر بڑھتی چلی جائے، جب تک پہلی صف مکمل نہ ہوجائے دوسری صف نہ بنائی جائے گو کہ اگلی صف میں صرف ایک ہی آدمی کے کھڑے ہونے کی جگہ کیوں نہ ہو ، اگر اگلی صف بالکل مکمل ہوجائے کہ اس میں ایک آدمی کی بھی جگہ نہیں رہی تو آنے والے اگر زیادہ ہوں (یعنی دو یا دو سے زیادہ) تو نئی صف بنالیں اگر آنے والا ایک ہی شخص ہے تو دیکھے کہ امام کو رکوع میں جانے کے لیے ابھی وقت لگے گا وہ تھوڑا انتظار کرے تاکہ کوئی اور آجائے اس کے ساتھ مل کر نئی صف بنا لے ۔ اگر امام کو رکوع کرنے میں زیادہ وقت نہیں رہا تو وہ اور اگلی صف سے کسی کو پیچھے کھینچ لے اور اس کو ساتھ کھڑا کرکے صف بنا لے اور اگر اسے خدشہ ہو کر اگلی صف میں کھڑا آدمی مسئلہ سے واقف نہیں یا کھینچے سے اسے اذیت پہنچے گی اور ادھر رکعت کے فوت ہوجانے کا خوف ہے تو پھر اکیلا ہی کھڑا ہوجائے ۔ حدیث بالا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس صحابی کو از سر نو نماز پڑھنے کا حکم دیا تو یہ صف بندی کے لیے شدت اہتمام کے لیے تھا اس سے آگے والی صف میں ابھی گنجائش تھی یا اس کو تنہا حکم دیا تاکہ بقیہ لوگوں کو بھی عبرت ہوجائے ۔