23058- عن نافع أن ابن عمر أذن وهو بضجنان بين مكة والمدينة في عشية ذات ريح وبرد فلما قضى النداء قال لأصحابه: "ألا صلوا في الرحال، ثم حدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر مناديه بذلك في الليلة الباردة والمطيرة أو ذات ريح إذا فرغ من أذانه" قال: "ألا صلوا في الرحال مرتين". "عب".
23058 ۔۔۔ نافع روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیز ہوا چل رہی تھی اور سردی بھی شدید تھی حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مقام ضجنان میں تھے چنانچہ جب عشاء کی اذان مکمل ہوئی تو آپ (رض) نے اپنے ساتھیوں سے کہا : نماز اپنے اپنے کجاو وں میں پڑھ لو ، پھر آپ (رض) نے حدیث بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ سخت ٹھنڈی رات میں بارش بھی برس رہی تھی یا آندھی چل رہی تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مؤذن کو حکم دیا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موذن جب اذان سے فارغ ہوا تو دو مرتبہ کہا : نماز اپنے اپنے کجاوہ میں پڑھ لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)