23075- عن عثمان بن عطاء قال: "لما افتتح عمر بن الخطاب البلدان كتب إلى أبي موسى الأشعري وهو على البصرة يأمره أن يتخذ للجماعة مسجدا ويتخذ للقبائل مسجدا، فإذا كان يوم الجمعة انضموا إلى مسجد الجماعة فشهدوا الجمعة، وكتب إلى سعد بن أبي وقاص وهو على الكوفة بمثل ذلك، وكتب إلى عمرو بن العاص وهو على مصر بمثل ذلك، وكتب إلى أمراء الأجناد أن لا يبدوا إلى القرى، وأن ينزلوا المدائن، وأن يتخذوا في كل مدينة مسجدا واحدا ولا يتخذ القبائل مساجد كما اتخذ أهل الكوفة والبصرة وأهل مصر وكان الناس متمسكين بأمر عمر وعهده". (كر) .
23075 ۔۔۔ عثمان بن عطاء کہتے ہیں جب سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے شہروں کے شہر فتح کرلیے تو آپ (رض) نے اپنے گورنروں کو مختلف خطوط لکھے حضرت ابوموسی اشعری (رض) جو بصرہ کے امیر تھے کو خط لکھ کر حکم دیا کہ ایک جامع مسجد بناؤ اور مختلف قبیلوں کے لیے بھی مسجدیں بنا لو اور جب جمعہ کا دن ہو تو سب (قبائل) جمعہ کے لیے جامع مسجد میں جمع ہوجائیں حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) جو کوفہ کے گورنر تھے کی طرف بھی ایسا ہی خط لکھا حضرت عمروبن العاص جو مصر کے گورنر تھے کی طرف بھی اسی مضمون میں خط لکھا اور امراء اجناد کی طرف لکھا کہ دیہاتوں کی طرف مت نکل جاؤ بلکہ شہروں میں رہو اور ہر شہر میں صرف ایک ہی مسجد بناؤ اور قبیلے اپنی الگ الگ مسجدیں نہ بنائیں جیسے کہ اہل کوفہ اہل بصرہ اور اہل مصر نے بنا رکھی ہیں راوی کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے عہد میں ان کا حکم فورا نافذ کرتے تھے اور اس پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)