23084- عن السائب بن يزيد قال: "كنت نائما في المسجد فحصبني رجل فنظرت فإذا هو عمر بن الخطاب فقال: اذهب فائتني بهذين فجئته بهما فقال: من أنتما؟ قالا: من أهل الطائف، فقال: لو كنتما من أهل البلد لأوجعتكما ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ "
(خ ، ق) .
23084 ۔۔۔ سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد میں سو رہا تھا کہ کسی نے اچانک مجھے کنکری ماری ، میں دیکھتا ہوں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ہیں آپ (رض) نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور ان دو آدمیوں کو میرے پاس لاؤ چنانچہ میں ان دو آدمیوں کو آپ (رض) کے پاس لایا آپ (رض) ان سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے جواب دیا ہم طائف کے رہنے والے ہیں آپ (رض) نے فرمایا : اگر تم شہر کے رہنے والے نہ ہوتے میں تمہیں سزا دیتا کیا تم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں آوازیں بلند کر رہے ہو ۔ (رواہ البخاری والبیہقی)