23107- (مسند أبي سعيد) أن النبي صلى الله عليه وسلم بينا هو يصلي يوما خلع نعليه فخلع الناس نعالهم، فلما انصرف قال: "ما شأنكم خلعتم نعالكم، قالوا: رأيناك خلعت فخلعنا، فقال: إن جبريل أتاني وأخبرني أن بهما قذرا، فإذا جاء أحدكم المسجد فلينظر نعليه، فإن كان بهما قذر فليدلكهما بالأرض". (عب) .
23107 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اسی اثناء میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جوتے اتار دیئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بھی جوتے اتار دیئے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تم لوگوں نے جوتے کیوں اتارے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : ہم نے جو آپ کو جوتے اتارتے دیکھا لہٰذا ہم نے بھی جوتے اتار دیئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے تھے انھوں نے مجھے خبر دی کہ میرے جوتوں پر گندگی لگی ہوئی ہے سو تم میں سے جو آدمی بھی مسجد کی طرف آئے اور وہ اپنے جوتوں کو دیکھ لیا کرے اگر ان میں کوئی گندگی پائے تو انھوں زمین کے ساتھ رگڑے ۔ (رواہ عبدالرزاق)