23145- عن أبي عمير بن أنس قال: "أخبرني عمومة لي من الأنصار" قال: "اهتم النبي صلى الله عليه وسلم بالصلاة كيف يجمع الناس لها فقيل له: انصب راية عند حضور الصلاة فإذا رآها الناس أخبر بعضهم بعضا فلم يعجبه ذلك وذكر له القنع ، فلم يعجبه ذلك" وقال: "إنه من أمر اليهود، وذكر له الناقوس، فلم يعجبه ذلك" وقال: "هو من أمر النصارى، فانصرف عبد الله بن يزيد وهو مهتم بهم النبي صلى الله عليه وسلم، فأري الأذان في منامه فغدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال: يا رسول الله إني لبين اليقظان والنائم إذ أتاني آت فأراني الأذان، وكان عمر بن الخطاب رأى قبل ذلك فكتم عشرين ليلة، ثم أخبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما منعك أن تخبرني بذلك؟ فقال: سبقني عبد الله بن زيد فاستحييت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبلال: قم فما يأمرك به عبد الله بن زيد فافعله فأذن بلال،" قال أبو عمير: "إن الأنصار تزعم أن ابن زيد لولا أنه كان يومئذ مريضا لجعله رسول الله صلى الله عليه وسلم مؤذنا". (ص) .
23145 ۔۔۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں ک مجھے میری ایک انصار یہ پھوپھی نے خبر دی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غمزدہ ہوگئے کہ لوگوں کو نماز کے لیے کیسے جمع کیا جائے ۔ چنانچہ کسی نے یہ رائے دی کہ نماز کا وقت ہوجانے پر آپ ایک جھنڈا لہرائیں لوگ اسے دیکھ کر ایک دوسرے کو بتادیں گے اور نماز کے لیے حاضر ہوجائیں گے مگر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ طریقہ اچھا نہ لگا ۔ کسی نے نرسنگھا بجانے کی رائے دی لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ طریقہ بھی اچھا نہ لگا اور فرمایا : یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ناقوس کا تذکرہ کیا گیا لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے من کو یہ بھی نہ بھایا اور فرمایا یہ نصاری کا طریقہ ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غم میں غمزدی ہو کر گھر چل پڑے اور انھیں خواب میں اذان دکھائی گئی اور صبح ہوتے ہی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا کہ اچانک ایک آنے والا آیا اور مجھے اذان سمجھاتا گیا حالانکہ حضرت عمر (رض) نے بیس (20) دن پہلے خواب میں اذان دیکھ لی تھی لیکن اسے چھپائے رکھا اور پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے مجھے پہلے خبر کیوں نہیں کہ ؟ عرض کیا چونکہ عبداللہ بن زید مجھ پر سبقت لے گئے اور پھر مجھے حیاء آنے لگی : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ کھڑے ہوجاؤ اور عبداللہ بن زید تمہیں حکم کرتا رہے وہ بجا لاتے رہو چنانچہ بلال (رض) نے اذان دی ابو عمر (رض) کہتے ہیں۔ انصار کا گمان ہے کہ اس دن اگر عبداللہ بن زید (رض) بیمار نہ ہوتے تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں موذن مقرر فرماتے ۔ مرواہ سعید بن المنصور)