hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23276

.

كنز العمال

23276
Kanz al-Ummal
23276- (مسند أنس) كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سمع المؤذن قال: كما يقول وأنه كان يقول إذا بلغ حي على الصلاة حي على الفلاح: "لا حول ولا قوة إلا بالله". (أبو الشيخ) .
23276 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اذان سنتے تو جواب میں وہی کلمات دہراتے اور جب مؤذن حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب میں ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کہتے ۔ محظورات اذان : فائدہ : ۔۔۔ اذان کے کچھ ممنوعات ومکروہات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں مثلا جو آدمی اذان کے کلمات کی ادائیگی سے اچھی طرح واقف نہ ہو وہ اذان نہ دے جو آدمی اذان کے کلمات میں فرق نہ کرسکتا ہو وہ بھی اذان نہ دے نابینا کو اذان نہیں دینی چاہیے جنبی کو اذان نہیں دینی چاہیے نشے میں دھت انسان کو اذان نہیں دینی چاہیے اسی طرح جس کی آواز دھیمی ہو اسے اذان نہیں دینی چاہیے ۔ نیز بےڈھنگی آواز والے کو بھی اذان نہیں دینی چاہیے چونکہ بےڈھنگی آواز میں اگر اذان دی جائے گی تو ممکن ہے کہ کوئی شعار دین کی توہین نہ کر بیٹھے بدعتی کا اذان دینا مکروہ ہے نیز قوم کے نچلے طبقہ کے لوگوں کو بھی اذان نہیں دینی چاہیے ۔