233 – "يؤتى برجل يوم القيامة ثم يؤتى بالميزان ثم يؤتى بتسعة وتسعين سجلا كل سجل منها مد البصرفيها خطاياه وذنوبه فتوضع في كفة الميزان ثم يخرج له قرطاس مثل هذا وأمسك بابهامه على نصف أصبعه فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فتوضع في كفة أخرى فترجح بخطاياه وذنوبه" (عبد بن حميد عن ابن عمرو) .
٢٣٣۔۔ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا پھر میزان بھی لائی جائے گی اور اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر اس کے سامنے پیش ہوں گے ۔ ہر دفتر انتہا نظر تک پھیلا ہوگا، جن میں اس کی خطائیں اور گناہ ہوں گے۔۔ پھر تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا پھر آدھے پور جتنا کاغذ کا ایک پرزہ نکالا جائے گا جس میں اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ، درج ہوگا۔ اور اس کاغذ کے پرزے کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔۔۔ اور پھر کاغذ کا وہ پرزہ اس کی تمام خطاؤں اور گناہوں پر بھاری ہوجائے گا۔ عبد بن حمید بروایت ابن عمرو۔