hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23327

.

كنز العمال

23327
Kanz al-Ummal
23327- (أيضا) عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال: "من حدثك أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب على المنبر جالسا فكذبه به فانا شهدته كان يخطب قائما، ثم يجلس، ثم يقوم فيخطب خطبة أخرى، قلت:فكيف كانت خطبته؟ قال: "كلام يعظ به الناس ويقرآ آيات من كتاب الله، ثم ينزل وكانت خطبته قصدا، وصلاته قصدا بنحو: {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} {وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ} إلا صلاة الغداة" قال: "وصلاة الظهر كان بلال يؤذن حين تدحض الشمس، فان جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم أقام، وإلا مكث حتى يخرج، والعصر نحو ما تصلون، والمغرب نحو ما تصلون، والعشاء الآخرة يؤخرها عن صلاتكم قليلا". (كر) .
23327 ۔۔۔ سماک بن حرب جابر بن سمرہ (رض) س روایت نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی تمہیں بتائے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اس کی تکذیب کرو چونکہ میں آپ کو خطبہ دیتے وقت حاضر رہتا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ پھر بیٹھ جاتے پھر دوبارہ کھڑے ہوجاتے اور دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے : سحاک کہتے ہیں : میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ کیسا ہوتا تھا ؟ جابر بن سمرہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبے میں لوگوں کو وعظ کرتے تھے اور قرآن مجید کی آیات تلاوت کرتے تھے نیز آپس کا خطبہ درمیانہ (نہ زیادہ طویل نہ زیادہ مختصر) ہوتا تھا (اور آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی ، مثلا آپ نماز میں ” والشمس وضحھا “ اور ” والسماء والطارق “۔ پڑھتے تھے ہاں البتہ فجر کی نماز قدرے طویل ہوتی تھی ، اور ظہر کی نماز کے لیے حضرت بلال (رض) اس وقت اذان دیتے تھے جب زوال شمس ہوچکا ہوتا چنانچہ پھر اگر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لا چکے ہوتے تھے تو بلال (رض) اقامت کہتے دیتے ورنہ تھوڑی دیر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آتے آپ عصر کی نماز ایسے ہی پڑھتے جیسے کہ تم پڑھتے ہو اور مغرب کی نماز بھی تمہاری طرح پڑھتے ۔ البتہ عشاء کی نماز تمہاری نسبت تھوڑی موخر کر کے پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)