23339- عن علي قال: "إذا كان يوم الجمعة جاءت الملائكة إلى باب المسجد فكتبوا الناس على قدر منازلهم وخرجت الشياطين بالربائث يربثون الناس ويذكرونهم الحوائج، فمن أتى الجمعة ودنا واستمع وأنصت ولم يلغ كان له كفلان من الأجر، ومن نأى استمع وأنصت ولم يلغ كان له كفل من الأجر، ومن دنا فاستمع ولم ينصت ولغا كان عليه كفلان من الإثم، ومن نأى ولم يستمع ولم ينصت كان عليه كفل من الوزر، ومن قال مه فقد تكلم ومن تكلم فلا جمعة له،" ثم قال: "هكذا سمعته من نبيكم صلى الله عليه وسلم". (ش حم) .
23339 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ جتنے فاصلے سے چل کر آتے ہیں اسی قدر ان کے لیے اجر وثواب لکھتے ہیں شیاطین بھی مختلف قسم کے حیلے بہانے لے کر آجاتے ہیں جن کے ذریعہ لوگوں کو پھسلاتے ہیں اور لوگوں کو طرح طرح کی حاجات اور ضروری کام یاد کرواتے ہیں لہٰذا جو شخص جمعہ کے لیے آگیا منبر کے قریب بیٹھا لغو سے گریز کیا اور خاموشی سے خطبہ سنا اس کے لیے دو چند ثواب ہے جو شخص منبر سے دور رہا خاموشی سے خطبہ سنا اور کوئی لغویات نہیں کی اس کے لیے اجر وثواب کا ایک حصہ ہے ، جو شخص منبر کے قریب بیٹھا خطبہ سنا لیکن خاموش نہیں رہا اور اس سے لغو حرکت سر زد ہوئی اس پر دو گنا گناہ ہے جو شخص منبر سے دور بیٹھا اور نہ خطبہ سنا اور نہ ہی خاموش رہا اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے جس نے کسی دوسرے کو ” خاموش رہو “ کہا گویا اس نے بھی کلام کیا اور جو کلام کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں ہوتا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے پھر کہا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے ہی سنا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، واحمد بن حنبل)