23353 عن ابن عباس قال : الغسل يوم الجمعة ليس بواجب، ومن اغتسل فهو خير ثم قال : كان الناس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسون الصوف ، وكان المسجد ضيقا فخطب رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر فعرق الناس في الصفوف فثار ريح الصوف حتى كاد يؤذي بعضهم بعضا حتى بلغت أرياحهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا أيها الناس إذا كان هذا اليوم فاغتسلوا وليمس أحدكم أطيب ما يجد من طيبه أو دهنه (ابن جرير).
23353 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں جمعہ کے دن غسل واجب نہیں ہے البتہ غسل کرنا افضل ہے چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ صوف (اون ) کے کپڑے پہنتے تھے اور مسجد تنگ تھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت گرمی میں ایک دن خطبہ دینے لگے صوف کے کپڑوں میں لوگوں کو پسینہ آیا جس سے بدبو پھیل گئی یہاں تک کہ ایک دوسرے کو اذیت پہنچے لگی اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بدبو محسوس ہوئی تو آپ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اے لوگو جب یہ دن (جمعہ) ہوا کرے غسل کرلیا کرو جس کے پاس جس قدر اچھی خوشبو میسر ہو لگا کر آیا کرے یا کم از کم تیل لگا کر آیا کرے ۔ مرواہ ابن جریر)