23396- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة ليلا فقال: ألا تصليان؟ فقلت: يا رسول الله إنما أنفسنا بيد الله تعالى إذا شاء أن يبعثنا بعثنا، فانصرف حين قلت ذلك ولم يرجع إلي شيئا، ثم سمعته وهو يضرب فخذه ويقول: {وَكَانَ الْأِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً} . (حم خ م ن وابن جرير وابن خزيمة) .
23396 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رات کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے اور فاطمہ (رض) کے پاس تشریف لائے آپ ۔ نے فرمایا : کیا تم نماز نہیں پڑھ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری جانیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب ہمیں اٹھانا چاہے گا ہم اٹھ جائیں گے ۔ جب میں نے یہ جواب دیا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لے گئے اور میری طرف پھر واپس نہیں پلٹے پھر میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر ہاتھ مار کر یہ آیت تلاوت کر رہے تھے ۔ ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا ‘ (رض) یعنی انسان جھگڑوں کا بہت خوگر ہے۔