hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 23466

.

كنز العمال

23466
Kanz al-Ummal
23466- عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال: "خرجت مع عمر ابن الخطاب ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه فيصلى بصلاته الرهط فقال عمر: إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب، ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم" قال عمر: "نعم البدعة هذه والتي تنامون عنها أفضل من التي تقومون يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله". (مالك عب خ وابن خزيمة ق وجعفر الفريابي في السنن) .
23466 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں میں رمضان میں ایک رات سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے ساتھ مسجد کی طرف گیا ہم کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں الگ الگ نماز پڑھ رہے ہیں ، چنانچہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور اس کی اقتداء میں چند آدمی نماز پڑھ رہے ہیں اس حالت کو دیکھ کر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : میری رائے ہے کہ اگر ان لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کردوں تو بہت اچھا ہوگا پھر آپ (رض) نے اس رائے کے نفاذ کا پختہ عزم کرلیا اور سب لوگوں کو حضرت ابی بن کعب (رض) کے پیچھے جمع کیا اس کے بعد ایک رات پھر میں آپ (رض) کے ساتھ مسجد میں گیا لوگ اپنے ایک قاری کے پیچھے نماز میں مشغول تھے، عمر (رض) نے فرمایا : یہ نیا طریقہ بہت اچھا ہے یہ لوگ رات کے جس حصہ میں سو جاتے ہیں وہ رات کے اس حصہ سے بدرجہا افضل ہے جس میں یہ کھڑے رہتے ہیں۔ یعنی رات کے اول حصہ میں نماز کے لیے کھڑے رہتے ہیں اور آخری حصہ کو جو کہ افضل ہے میں سو جاتے ہیں۔ مرواہ مالک وعبدالرزاق والبخاری وابن جریر وابن خزیمۃ والبیہقی وجعفر الفریابی فی السنن)