23479- عن علي قال: "أنا حرضت عمر على القيام في شهر رمضان، وأخبرته أن فوق السماء السابعة حظيرة يقال لها حظيرة القدس يسكنها قوم يقال لهم: الروح، فإذا كان ليلة القدر استأذنوا ربهم تبارك وتعالى في النزول إلى الدنيا، فيأذن لهم فلا ييممون بأحد يصلي أو على الطريق إلا دعوا له فأصابه منهم بركة فقال عمر: يا أبا الحسن فتحرض الناس على الصلاة حتى تصيبهم البركة فأمر الناس بالقيام. (هب - وسنده ضعيف) .
23479 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں : میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو ماہ رمضان میں قیام پر ابھارا کرتا تھا اور انھیں خبر دیتا تھا کہ ساتویں آسمانوں پر ایک مبارک مقام ہے جسے حظیرۃ القدس کہا جاتا ہے اس میں ایک قوم ایسی ہے جسے روح کہا جاتا ہے چنانچہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے یہ قوم اپنے رب تعالیٰ سے آسمان دنیا پر اترنے کی اجازت طلب کرتی ہے رب تعالیٰ انھیں اجازت مرحمت فرما دیتا ہے چنانچہ یہ جس نمازی کے اوپر سے گزرتے ہیں اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابو الحسن لوگوں کو نماز پر برانگیختہ کرتے رہو تاوقتیکہ انھیں بھی برکت کا حصہ مل جائے (پھر آپ (رض) نے لوگوں کو قیام اللیل کا حکم دیا) ۔ (رواہ شعب الایمان للبیہقی وسندہ ضعیف)