23490- (مسند أبي عياش الزرقي) كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعسفان فاستقبلنا المشركون عليهم خالد بن الوليد وهم بيننا وبين القبلة، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر، فقالوا: قد كانوا على حال لو أصبنا غرتهم فقالوا: تأتي عليهم الآن صلاة هي أحب إليهم من أبنائهم وأنفسهم فنزل جبريل بهذه الآيات بين الظهر والعصر: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاةَ} فحضرت الصلاة فأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذوا السلاح، فصففنا خلفه صفين ثم ركع فركعنا جميعا، ثم رفع فرفعنا جميعا، ثم سجد النبي صلى الله عليه وسلم بالصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم، فلما سجدوا وقاموا جلس الآخرون فسجدوا في مكانهم ثم تقدم هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء إلى مصاف هؤلاء، ثم ركع فركعوا جميعا، ثم رفع فرفعوا جميعا، ثم سجد النبي صلى الله عليه وسلم بالصف الذي يليه، والآخرون قيام يحرسونهم، فلما جلسوا جلس الآخرون، فسجدوا ثم سلم عليهم، ثم انصرف فصلاها رسول الله صلى الله عليه وسلم مرتين مرة بعسفان، ومرة في أرض بني سليم. (عب ص ش حم وعبد بن حميد، د ن وابن المنذر وابن جرير وابن أبي حاتم قط طب ك ق عب) .
23490 ۔۔۔ حضرت ابو عیاش زرقی (رض) کی روایت ہے کہ ہم مقام عسفان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ہمارے سامنے سے مشرکین آن وارد ہوئے ان کی کمان حضرت خالد بن ولید کر رہے تھے مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی مشرکین کہنے لگے : کاش کہ اگر ہم مسلمانوں کو غفلت میں پا کر ان پر حملہ آور ہوجائیں انھیں سے بعض کہنے لگے : ابھی ابھی مسلمانوں کے لیے نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے نماز مسلمانوں کو اپنی اولاد اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ (لہذا وہ نماز میں مشغول ہوں گے ہم ان پر حملہ آور ہوجائیں گے) چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیات لے کر اترے (آیت) ” واذاکنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ یعنی جب آپ مسلمانوں میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کریں ، پس نماز کا وقت ہوگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا انھوں نے اپنا اپنا اسلحہ سنبھال لیا پھر ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دو صفتیں بنالیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے اوپر سر اٹھایا تو سب نے اوپر سر اٹھایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھ ملی ہوئی صف کے ساتھ سجدہ کیا جب کہ دوسرے کھڑے تھے اور ان کی نگرانی کر رہے تھے جب وہ بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے سب نے سجدہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر سلام پھیرا اور نماز ختم کردی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ صلوۃ خوف پڑھی ہے ایک مرتبہ عسفان میں اور دوسری مرتبہ بنی سلیم کی سرزمین میں ۔ مرواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ ، والامام احمد بن حنبل وعبد بن حمید وابو داؤد والنسائی وابن المنذر وابن جریر ، وابن ابی حائم والدارقطنی والحاکم والبیہقی)