23504- (أيضا) عن حنش بن المعتمر قال: "انكسفت الشمس على عهد علي فقام فصلى بالناس فقرأ: بيس والروم، ثم ركع فركع نحوا من ذلك أو دونه، ثم رفع رأسه فقام نحوا من ذلك أو أقصر، ثم سجد نحوا من ذلك أو أقصر، ثم رفع رأسه، ثم سجد نحوا من ذلك أو أقصر، ثم رفع رأسه، ثم قام فصلى ركعة أخرى ففعل فيها مثل ما فعل في هذه الركعة". (ابن جرير) .
23504 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ حنش بن معتمر کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے دور میں سورج گرہن ہوا آپ (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی جس میں ” سورة یس اور سورة الروم “ قرات کی پھر قیام کے بقدر قیام کیا یا اس سے کچھ کم پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اوپر اٹھایا اسی کے بقدر قیام کیا یا اس سے کچھ کم پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی کے بقدر سجدہ کیا یا اس سے کچھ کم پھر اوپر سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدہ کے بقدر تھا یا اس سے کچھ کم آپ (رض) نے پھر اوپر سر اٹھایا اور دوسری رکعت پڑھی اس میں بھی اسی طرح کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا ۔ مرواہ ابن جریر)