23538- عن خوات بن جبير قال: "أصاب الناس قحط شديد على عهد عمر فخرج عمر بالناس فصلى بهم ركعتين وخالف بين طرفي ردائه فجعل اليمين على اليسار واليسار على اليمين، ثم بسط يديه فقال: اللهم إنا نستغفرك ونستسقيك فما برح مكانه حتى مطروا فبينما هم كذلك إذا الأعراب قد قاموا فأتوا عمر فقالوا: يا أمير المؤمنين بينا نحن في بوادينا في يوم كذا في ساعة كذا إذ أظلنا غمام فسمعنا فيها صوتا أتاك الغوث أبا حفص أتاك الغوث أبا حفص". (ابن أبي الدنيا، كر) .
23538 ۔۔۔ خوات بن جبیر کہتے ہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے دور میں لوگوں کو سخت قحط پیش آیا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کے ساتھ نماز گاہ میں تشریف لائے اور لوگوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر گھمائی اور یوں کہ دایاں کونا گھما کر اپنے بائیں مونڈھے پر لائے اور چادر کا بایاں کونا گھما کر اپنے دائیں مونڈھے پر لائے پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی : یا اللہ ہم تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں چنانچہ لوگ ابھی نماز گاہ سے نہیں ہٹے تھے کہ بارش برسنے لگی اسی دوران کچھ دیہاتی آئے اور کہنے لگے ہم اپنے دیہاتوں میں فلاں دن اور فلاں وقت تھے کہ اچانک بادلوں نے ہم پر سایہ کردیا ہم نے بادلوں کے بیچ سے آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا ۔ اے ابو حفص تمہاری مدد آرہی ہے اے ابو حفص تمہاری مدد آرہی ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا ابن عساکر)