23548- (مسند أنس رضي الله عنه) عن حميد قال: "سئل أنس هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه؟ " قال: "نعم شكا الناس إليه ذات يوم جمعة، فقالوا: يا رسول الله قحط المطر، وأجدبت الأرض، وهلك المال، فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وما في السماء قزعة سحاب، فما صلينا حتى أن الشاب القوي القريب المنزل ليهمه الرجوع إلى منزله فدامت علينا جمعة تهدمت الدور، واحتبس الركبان، فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم من سرعة ملالة ابن آدم فقال: اللهم حوالينا ولا علينا". (ش) .
23548 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ حمید روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ حضرت انس بن مالک (رض) نے جواب دیا : جی ہاں چنانچہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی ، کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خشک سالی نے سخت متاثر کردیا ہے زمین نے سبزہ اگانا بند کردیا ہے اور سارا مال ہلاک ہوگیا ہے ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کے لیے ہاتھ مبارک اٹھائے ، حتی کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی اس وقت آسمان میں بادلوں کا نام ونشان بھی نہیں تھا ہم نے نماز نہیں پڑھی تھی کہ قریب ہی سے ایک نوجوان آیا ہوا تھا وہ موسلادھار بارش کی وجہ سے گھر واپس جانے کے لیے پریشان ہوگیا جمعہ بھر (ہفتہ بھر) بارش برستی رہی مکانات مہندم ہوگئے راستے بند ہوگئے جس کی وجہ سے مسافروں کا آنا جانا موقوف ہوگیا ابن آدم کے جلدی سے اکتا جانے پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے اور فرمایا : یا اللہ حضرت ابوہریرہ (رض) بارش کا رخ ہمارے مضافات کی طرف موڑ دے تاکہ ہم پر نہ برسے ۔ مرواہ ابن ابی شیبۃ)