23628- قال الله تبارك وتعالى: "كل عمل ابن آدم له إلا الصيام فإنه لي وأنا أجزي به، والصيام جنة وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب وإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إني امرؤ صائم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله تعالى من ريح المسك، وللصائم فرحتان يفرحهما إذا أفطر فرح بفطره، وإذا لقي ربه فرح بصومه".
(حم م ن حب عب عن أبي هريرة) .
23628 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : بجز روزہ کے ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے پس روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ میں ہوں قسم اس ذات کی جسے قبضہ قدرت میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی افضل ہے روزہ دار کو دو فرحتیں نصیب ہوتی ہیں ایک فرحت اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری فرحت اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ اپنے اللہ تبارک وتعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے۔ مرواہ الامام احمد بن حنبل فی مسندو مسلم والنسائی وعبدالرزاق وابن حبان عن ابوہریرہ (رض))