23706- إذا كان أول ليلة من رمضان فتحت أبواب السماء فلا يغلق منها باب حتى يكون آخر ليلة من رمضان، وليس من عبد مؤمن يصلي في ليلة منها إلا كتب الله له ألفا وخمس مائة حسنة بكل سجدة، وبنى له بيتا في الجنة من ياقوتة حمراء لها ستون ألف باب منها قصر من ذهب موشح بياقوتة حمراء، فإذا صام أول يوم من رمضان غفر له ما تقدم من ذنبه إلى مثل ذلك اليوم من شهر رمضان واستغفر له كل يوم سبعون ألف ملك من صلاة الغداة إلى أن توارى بالحجاب، وكان له بكل سجدة يسجدها في شهر رمضان بليل أو نهار شجرة يسير الراكب في ظلها خمس مائة عام. (هب عن أبي سعيد) .
23706 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا حتی کہ رمضان کی آخری رات تک آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں جو بندہ مومن رمضان کی کسی رات میں نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے بدلہ میں پندرہ سو (1500) نیکیاں لکھ دیتے ہیں (اللہ تعالیٰ جنت میں سرخ یا قوت سے علیشان مکان اس کے لیے بناتے ہیں اس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوتے ہیں ، اس میں ایک عالیشان سونے کا محل ہوتا ہے جو سرخ یاقوت سے مزین ہوتا ہے چنانچہ جب وہ رمضان کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور ہر دن صبح کی نماز سے شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں اور ماہ رمضان میں وہ جو سجدہ بھی کرتا ہے خواہ دن کو یا رات کو اس کے ہر سجدہ کے بدلہ میں جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے جو اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سوار اس کے سائے تلے پانچ سو سال تک چلتا رہے (رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ابی سعید)