23711- إن الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى الحول، فإذا كان أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش. [فتفتقت] ورق الجنة، وتجيء الحور العين يقلن: يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بنا. (طب حل قط في الأفراد هب وتمام [د، ن، م] (3) كر عن ابن عمر؛ وفيه الوليد الدمشقي، قال أبو حاتم: "صدوق" وقال (قط) : "وغيره متروك") .
23711 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک آراستہ کیا جاتا ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کے جھونکوں سے جنت کے درختوں کے پتے بجنے لگتے ہیں (جس سے دلکش آواز نکلتی ہے اس آواز کو سن کر) خوشنما آنکھوں والی حوریں کھڑی ہوجاتی ہیں اور کہتی ہیں۔ اے ہمارے پروردگار اپنے نیک بندوں کو ہمارے شوہر بنا دے تاکہ وہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ہم ان کی آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم فی الحلیۃ والدارقنی فی الافراد شعب الایمان للبیہقی وابوداؤد والنسائی وابن عساکر عن ابن عمرو (رض)) لیکن طریق بالا میں ولید دمشقی ایک راوی ہے اس کے بارے میں ابو حاتم کہتے ہیں یہ راوی صدوق ہے جب کہ دارقطنی اس کو متروک کہا ہے۔ یہ حدیث ایک طویل حدیث کا حصہ ہے دیکھئے ، التنزیہ 542 اولضعیفہ 1325 ۔