24085- " ليلة القدر في العشر البواقي من قامهن ابتغاء حسبتهن فإن الله يغفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، وهي ليلة وتر تسع أو سبع أو خامسة أو ثالثة أو آخر ليلة، إن أمارة ليلة القدر أنها صافية بلجة كأن فيها قمرا ساطعا ساكنة لا برد فيها ولا حر ولا يحل لكوكب أن يرمى به حتى تصبح وأن أماراتها أن الشمس صبيحتها تخرج مستوية ليس فيها شعاع مثل القمر ليلة البدر لا يحل للشيطان أن يخرج معها يومئذ". "حم ض عن عبادة بن الصامت".
24085 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شب قدر رمضان کے آخیر عشرہ کی طاق راتوں ، 21، 25، 27، 29، یا رمضان کی آخری رات میں ہے جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے اس رات میں عبادت کرے گا اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس رات کی علامت یہ ہے کہ وہ کھلی ہوئی چمکدار ہوتی ہے صاف شفاف زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس میں چاند کھلا ہوا ہوتا ہے اس رات میں صبح تک ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے نیز اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے ایسا بالکل ہموار ٹکیہ کی طرف ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند اللہ جل شانہ نے اس دن کے آفتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے روک دیا ہے۔ مرواہ احمد والضیاء المقدسی عن عبادۃ بن الصامت)