2419 – "من قرأ القرآن وعمل بما فيه ومات مع الجماعة بعثه الله يوم القيامة مع السفرة والحكام، ومن قرأ القرآن وهو ينفلت (1) منه لا يدعه فله أجره مرتين، ومن كان حريصا عليه ولا يستطيعه ولا يدعه بعثه الله يوم القيامة مع أشراف أهله، وفضلوا على الخلائق كما فضلت النسور على سائر الطيور وكما فضلت عين في مرج على ما حولها ثم ينادي مناد أين الذين كانوا لا تلهيهم رعية الأنعام عن تلاوة كتابي فيقومون فيلبس أحدهم تاج الكرامة ويعطى النور (2) بيمينه والخلد بشماله فإن كان أبواه مسلمين كسيا حلة خيرا من الدنيا وما فيها فيقولان: أنى هذه لنا فيقال بما كان ولدكما يقرأ القرآن" (ابن زنجويه طب هب) عن معاذ.
2419 ۔۔ جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا اور جماعت مسلمین کے ساتھ ہی مرگیا اللہ اس کو قیامت کے روز کاتبین اور سردار فرشتوں کے ساتھ اٹھائیں گے۔ اور جس نے قرآن پڑھا اور وہ اس میں اٹکتا ہے لیکن پھر بھی چھوڑتا نہیں تو اس کو دگنا اجر ہوگا۔ اور جو قرآن کا حریص ہے لیکن اس کو پڑھ بھی نہیں سکتا اور چھوڑتا بھی نہیں، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس کے خاندان کے اشراف و معزز لوگوں میں اٹھائیں گے۔ اور ان کو مخلوق پر ایسی ہی فضیلت حاصل ہوگی، جیسی سرخاب کو تمام پرندوں پر ہے۔ اور جیسے چراگاہ میں چشمہ کو آس پاس کی ساری زمین پر فوقیت ہوتی ہے۔ پھر ایک منادی نداء دے گا کہاں ہیں وہ لوگ، جن کو جانوروں کا چرانا میری کتاب کی تلاوت سے مانع نہیں ہوتا تھا ؟ وہ کھڑے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کو کرامت و عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ پروانہ نور اس کے دائیں ہاتھ اور پروانہ خلد بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کے والدین مسلمان ہوں گے تو ان کو دنیا اور اس کے سازوسامان سے قیمتی جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ کہیں گے یہ کس سبب سے ؟ کہا جائے گا تمہاری اولاد کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے۔ (ابن زنجویہ الکبیر للطبرانی (رح) شعب الایمان بروایت معاذ (رض))