24193- "إن آدم لما عصى وأكل من الشجرة أوحى الله تعالى إليه يا آدم اهبط من جواري وعزتي لا يجاورني من عصاني، فهبط إلى الأرض مسودا فبكت الملائكة وضجت وقالوا: يا رب خلق خلقته بيدك وأسكنته جنتك وأسجدت له ملائكتك، في ذنب واحد حولت بياضه فأوحى الله تعالى إلى آدم: يا آدم صم لي هذا اليوم يوم ثلاثة عشر فصامه، فأصبح ثلثه أبيض، ثم أوحى الله تعالى إليه يا آدم صم لي هذا اليوم يوم أربعة عشر فصامه، فأصبح ثلثاه أبيض، ثم أوحى الله تعالى إليه يا آدم صم لي هذا اليوم يوم خمسة عشر فصامه فأصبح كله أبيض، فسميت أيام البيض". "الخطيب في أماليه وابن عساكر عن ابن مسعود، مرفوعا وموقوفا، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وقال: في إسناده مجهولون".
24193 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم سے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی سرزد ہوئی اور ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں حکم دیا : اے آدم عن ابوہریرہ (رض) میری عزت والے ٹھکانے اور پڑوس سے چلے جاؤ چونکہ میری معصیت کا مرتکب میرے پڑوس میں نہیں رہ سکتا چنانچہ آدم (علیہ السلام) زمین پر اتر آئے اور ان کے چہرے کی رنگت سیاہ پڑگئی تھی آدم (علیہ السلام) کی یہ حالت دیکھ کر فرشتے رودیئے اور پکار کر کہنے لگے : اے ہمارے پروردگار ! ایک مخلوق کو تو نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے اپنی جنت میں ٹھہرایا اور فرشتوں سے اس کے آگے سجدہ کرایا بھلا اس کے ایک گناہ کی وجہ سے اس کے چہرے کی سفیدی بدل ڈالی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ : اے آدم ! میرے لیے اس دن یعنی تیرا تاریخ کا روزہ رکھو آدم (علیہ السلام) نے اس دن روزہ رکھا چنانچہ آدم (علیہ السلام) کے چہرے کا تہائی حصہ سفید ہوگیا اللہ تعالیٰ نے پھر حکم دیا : اے آدم میرے لیے اس دن یعنی 14 تاریخ کا روزہ رکھو آدم (علیہ السلام) نے اس دن روزہ رکھا اور اس کا دوتہائی حصہ سفید ہوگیا اللہ تعالیٰ نے پھر حکم دیا کہ اے آدم ! میرے لیے اس دن یعنی 15 تاریخ کا روزہ رکھو آدم (علیہ السلام) نے اس دن روزہ رکھا اور ان کا پورا چہرہ (اور پورا جسم) سفید ہوگیا اور چمکنے لگا اسی مناسبت سے ان دونوں کو ایام بیض کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ (رواہ الخطیب فی امالیہ وابن عساکر عن ابن مسعود (رض) مرفوعا وموقوفا) کلام : ۔۔۔ ابن جوزی (رح) نے یہ حدیث موضوعات میں ذکر کی ہے اور لکھا ہے کہ اس کی سند میں بہت سارے مجہول روای ہیں۔