hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 24274

.

كنز العمال

24274
Kanz al-Ummal
24274- عن علي قال: "لما كان أول ليلة من رمضان قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وأثنى على الله تعالى وقال: أيها الناس قد كفاكم الله تعالى عدوكم من الجن، ووعدكم الإجابة وقال: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} ألا وقد وكل الله عز وجل بكل شيطان مريد سبعة من الملائكة فليس بمحلول حتى ينقضي شهر رمضان، ألا وأبواب السماء مفتحة من أول ليلة منه والدعاء فيه مقبول حتى إذا كان أول ليلة منه من العشر شمر الميزر وخرج من بينهن، واعتكف وأحيى الليل، قيل: وما شد الميزر؟ قال: كان يعتزل النساء فيهن". "الأصبهاني في الترغيب".
24274 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوجاتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرماتے اے لوگو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے دشمنوں یعنی جنات کی طرف سے تمہاری کفایت کردی ہے اور تم سے قبول دعا کا وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” ادعونی استجب الکم “ یعنی مجھے پکارو میں تمہارا جواب دوں گا خبردار اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر شیطان مردود کے پیچھے سات فرشتوں کا لگا دیا ہے اور کوئی شیطان بھی رمضان گزرے تک نہیں اترنے پاتا خبردار رمضان کی اول رات سے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں رمضان میں دعا قبول کی جاتی ہے حتی کہ جب رمضان کے عشرہ کی پہلی رات ہوتی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا ازار کس لیتے اور اپنی ازواج کے درمیان سے نکل پڑتے اعتکاف میں بیٹھ جاتے اور پوری رات عبادت میں مصروف تھے کسی نے حضرت علی (رض) سے پوچھا ازار کسنا کیا ہوتا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں سے الگ ہوجاتے تھے (رواہ الا صبھانی فی الترغیب)