24319- "مسند علي رضي الله عنه" عن أحمد بن منصور قال: "أخبرني من حضر سفيان بن عيينة وعنده وكيع بن الجراح ويحيى بن آدم فقال ابن عيينة لوكيع: يا أبا سفيان لم كره علي بن أبي طالب قضاء رمضان في ذي الحجة؟ فقال له وكيع: لأنها أيام عظام، فأراد علي أن ينفرد بصيامها، قال: ابن عيينة ليحيى بن آدم: كذا تقول يا أبا زكريا؟ قال: لا قال: فما تقول؟ قال: ألست تعلم أن علي بن أبي طالب كان يقول يقضى رمضان تباعا؟ قال: بلى فكره علي بن أبي طالب أن يقضى رمضان في ذي الحجة لئلا يمر فيه يوم النحر فلا يحل فيه صيام فأعجب به ابن عيينة". "عبيد الله ابن زياد الكاتب في أماليه".
24319 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ احمد بن منصور کہتے ہیں : مجھے ایک آدمی نے خبر دی ہے جو سفیان بن عینیہ کے پاس حاضر تھا اور سفیان بن عینیہ کے پاس وکیع بن جراح اور یحییٰ بن آدم بھی تھے ، ابن عینیہ نے وکیع (رح) سے کہا : اے ابو سفیان سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء کو کیوں مکروہ سمجھتے تھے ؟ وکیع (رح) نے جواب دیا : چونکہ یہ ایام عظمت ہیں اس لیے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے چاہا وہ اکیلے ہی ان دنوں کے روزے رکھیں ۔ ابن عینیہ نے یحییٰ بن آدم سے کہا : اے ابو زکریا آپ بھی یہی کہتے ہیں : جواب دیا نہیں کہا : پھر آپ کیا کہتے ہیں : یحییٰ (رح) نے جواب دیا : کیا آپ نہیں جانتے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کی قضاء لگا تار کی جائے ؟ کہا جی ھاں یحییٰ (رح) نے کہا : اسی لیے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء مکروہ سمجھتے تھے چونکہ ذی الحجہ میں قربانی کا دن بھی آتا ہے اور اس میں روزہ رکھنا جائز نہیں یہ جواب ابن عینیہ (رح) کو بہت پسند آیا ۔ (رواہ عبیداللہ ابن زیادہ الکاتب فی امالیہ)