24322- "مسند أبي هريرة رضي الله عنه" جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "هلكت قال: وما أهلكك؟ قال: وقعت على امرأتي في رمضان قال: أعتق رقبة، قال: لا أجد، قال: صم شهرين، قال: لا أستطيع قال: أطعم ستين مسكينا قال: لا أجد قال: اجلس فجلس فبينما هو كذلك إذ أتي بفرق فيه تمر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب فتصدق به، قال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتي المدينة أهل بيت أفقر إليه منا فضحك حتى بدت أنيابه، ثم قال: انطلق فأطعمه عيالك". "ش"
24322 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ “۔ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ عرض کیا میں رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کر بیٹھا ہوں ، حکم ہوا غلام آزاد کرو عرض کیا : میرے پاس غلام نہیں ہے کہا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔ کہا : میرے پاس کھانا بھی نہیں ہے فرمایا : بیٹھ جاؤ چنانچہ وہ آدمی (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس) بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک ٹوکری لائی گئی اس میں کھجوریں تھیں ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے جاؤ اور صدقہ کرو۔ عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے ! اہل مدینہ میں مجھ سے بڑھ کر زیادہ محتاج کوئی بھی نہیں ہے ، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی بات سن کر ہنس دیئے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے فرمایا : جاؤ اور اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ ۔ مرواہ البخاری فی کتاب الصوم باب اذا جامع فی رمضان ولم یکن لہ شیء ابن ابی شیبۃ)