2433- "اقرأ يا أسيد فإن الملائكة لم تزل يستمعون صوتك فلو قرأت أصبحت ظلة بين السماء والأرض يترآها الناس فيها الملائكة". (طب) عن محمود بن لبيد عن أسيد بن حضير إنه قرأ ليلة وفرسه مربوطة فادار الفرس في رباطه فانصرف فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكره.
2433 ۔۔ اے اسید پڑھتا رہتا ۔ کیونکہ ملائکہ تیری آواز سن رہے تھے۔ اگر تو یوں ہی پڑھتا رہتا تو آسمان و زمین کے درمیان بادل کا سا سائبان رونما ہوجاتا، جسے تمام لوگ دیکھتے اور اس میں ملائکہ ہوتے۔ (الکبیر للطبرانی (رح) بروایت محمود بن لبید عن اسید بن حضیر)
حضرت اسید (رض) بن حضیر سے مروی ہے کہ انھوں نے رات کے پہر تلاوت شروع کی۔ ان کا گھوڑا بندھا ہوا تھا، وہ اپنے دائرے میں چکر کاٹنے لگا۔ تو انھوں نے تلاوت موقوف کردی۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔