24341- عن ابن عمر عن أبيه قال: "خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثماني عشرة ليلة خلت من شهر رمضان، فإذا برجل يحتجم، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أفطر الحاجم والمحجوم، فقلت: يا رسول الله صلى الله عليك أفلا آخذ بعنقه حتى أكسره؟ قال: ذره فما لزمه من الكفارة أعظم مما تريد به، قلت: وما كفارة ذلك يا رسول الله؟ قال: يوم مثله، قلت إذا لا يجده، قال: إذا لا أبالي". "ابن جرير، وقال: "خبر باطل لا يجوز الاحتجاج به في الدين وذلك أنه لا يعرف له مخرج عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه وفيه أبو بكر العبسي 1 ممن لا يعتمد على روايته ولا يلزم بنقله حجة".
24341 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) اپنے والد محترم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کی اٹھارھویں تاریخ کو نکلا ، اچانک ایک آدمی سینگی لگوا رہا تھا ، جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا تو فرمایا : سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ افطار ہوچکا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تبارک وتعالیٰ آپ پر رحمت نازل کرے ! میں اس کی گردن پکڑ کر توڑ نہ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑو تمہارے چاہنے سے زیادہ کفارہ اسے لازم نہیں ہوتا ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ فرمایا : اس دن کی جگہ ایک دن اور روزہ رکھنا میں نے عرض کیا : جب یہ نہ پائے تو ؟ فرمایا : تب مجھے کچھ پروا نہیں ۔ (رواہ ابن جریر) کلام : ۔۔۔ ابن جریر کہتے ہیں : یہ حدیث باطل ہے اور دین میں اس حدیث سے حجت پکڑنا کسی طرح جائز نہیں ہے چونکہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرنے کا مخرج غیر معروف ہے اور صرف اسی طریق سے یہ معروف ہے نیز اس کی سند میں ابوبکر عبسی نامی راوی ہے اور اس کی روایات پر کسی طرح بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا نیز اس حدیث کو نقل کرنے سے حجت لازم نہیں ہوتی ۔ نیز ذہبی (رح) کہتے ہیں ابوبکر عبسی عن عمر مجہول سند ہے دیکھئے میزان الاعتدال 4994 ۔