24391 - عن ابن المسيب عن أبيه قال : كنت جالسا عند عمر إذ جاءه راكب من الشام فطفق عمر يستخبر عن حالهم فقال : هل يعجل أهل الشام الفطر ؟ قال : نعم ، قال : لن يزالوا بخير ما فعلوا ذلك ولم ينتظروا انتظار أهل العراق.
(عب ش ق وجعفر الفريابي في سننه والجوهري في أماليه).
24391 ۔۔۔ ابن مسیب (رح) اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شام سے آنے والا ایک سوار آیا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اس سے اہل شام کے حالات دریافت کرنے لگے اور فرمایا : اہل شام روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس نے جواب دیا : جی ہاں ، فرمایا : جب تک لوگ ایسا کرتے رہیں گے اور اہل عراق کی طرح انتظار نہیں کریں گے برابر خیر و بھلائی پر قائم رہیں گے ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ والبیہقی ، وجعفر الفریابی فی سننہ وانجوھر فی امالیہ)