24496- "مسند أبي رضي الله عنه" عن زر قال: "قلت لأبي ابن كعب: أخبرني عن ليلة القدر يا أبا المنذر فإن صاحبنا ابن مسعود سئل عنها فقال: من يقيم الحول يصيبها، فقال: رحم الله أبا عبد الرحمن والله لقد علم أنها في رمضان ولكن كره أن تتكلوا والله والله إنها لفي رمضان ليلة سبع وعشرين، قلت: أبا المنذر أنى علمت ذاك؟ قال: بالآية التي أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت ما الآية؟ قال: تصبح الشمس صبيحة تلك الليلة مثل الطست ليس لها شعاع حتى ترتفع. "حم والحميدي م، د ت، ن وابن خزيمة وابن الجارود وأبو عوانة والطحاوي، حب، هب؛ قط في الأفراد".
24496 ۔۔۔ ” مسند ابی (رض) “ زربن حبیش روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے کہا اے ابو منذر ! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے کیونکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) سے پوچھا گیا ، تو انھوں نے کہا : جو شخص پورا سال قیام (اللیل) کرے گا وہ اسے پالے گا حضرت ابی (رض) بولے ، اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے ۔ بخدا ! انھیں علم ہے کہ شب قدر رمضان میں ہے انھوں نے اسے ظاہر کرنا اس لیے ناپسند سمجھا کہ کہیں لوگ بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں ، بخدا ! شب قدر رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے ، زر کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابو منذر آپ کو کیسے معلوم ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : مجھے ایک نشانی سے اس کا پتہ چلا ہے جو مجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہوئی ہے میں نے کہا : وہ کونسی نشانی ہے ؟ کہا : سورج اس رات کی صبح طشتری کی مانند طلوع ہوتا ہے اور بغیر شعاع کے ہوتا ہے حتی کہ اسی حالت میں بلند ہوجاتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحمیدی ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن خزیمۃ وابن الجارود ابو عوانۃ والطحاوی وابن حبان و شعب الایمان للبیہقی والدارقطنی فی افراد)