24587- "مسند أسامة بن زيد رضي الله عنهما" قلت: "يا رسول الله لم أرك تصوم من شهر من الشهور ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان، وهو شهر ترفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم". "ش وابن زنجويه، ع وابن أبي عاصم والباوردي ص".
24587 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید “ میں نے عرض کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو کسی مہینہ میں اس قدر روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جس قدر کہ آپ کو شعبان میں روزے رکھتے دیکھا ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ مہینہ رجب و رمضان کے بیچ میں ہونے کہ وجہ سے لوگ اس سے غافل ہوجاتے ہیں اس مہینہ میں اعمال اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں مجھے پسند ہے کہ روزے کی حالت میں میرے اعمال اوپر اٹھائے جائیں ۔ مرواہ ابن ابی شیبۃ وابن زنجویہ وابو یعلی وابن ابی عاصم والبارودی و سعید بن المنصور )