24628- عن أبي عثمان قال: "كنا مع أبي هريرة في سفر فحضر الطعام وأبو هريرة يصلي، فأرسلوا إليه فقال: إني صائم، فأقبل القوم وفرغ أبو هريرة من صلاته وجاء وجلس على المائدة فجعل يأكل،فنظروا إلى الرسول، فقال الرسول: ما تنظرون إلي هو أخبرني أنه صائم فقال أبو هريرة: صدق سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: صيام شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر، فأنا صائم في تضعيف الله تعالى، ومفطر في رخصة الله". "ابن النجار".
24628 ۔۔۔ ابو عثمان کہتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، کھانا لایا گیا اور حضرت ابوہریرہ (رض) نماز پڑھ رہے تھے لوگوں انھیں پیغام بھیجا انھوں نے فرمایا : مجھے روزہ ہے ، لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نماز سے فارغ ہوئے اور آکر دسترخوان پر بیٹھ گئے اور کھانا کھانے لگے لوگ پیغام رساں کی طرف دیکھنے لگے (کہ شاید اس نے جھوٹ بول دیا ہو) اس نے کہا : میری طرف کیوں دیکھتے ہو انھوں نے مجھے خود بتایا ہے کہ مجھے روزہ ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور پھر ہر مہینہ میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کے برابر ہیں میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی تضعیف میں روزہ دار ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رخصت کے اعتبار سے افطار کرنے والا ہوں ۔ (رواہ ابن النجار)