2468 – "إن هذا القرآن صعب مستصعب لمن كرهه ميسر لمن اتبعه وإن حديثي صعب مستصعب لمن كرهه ميسر لمن اتبعه ومن سمع حديثي فحفظه وعمل به جاء يوم القيامة مع القرآن ومن تهاون بحديثي فقد تهاون بالقرآن، ومن تهاون بالقرآن خسر الدنيا والآخرة". (خط في الجامع عن الحكم بن عمير الثمالي) .
2468 ۔۔ قرآن اس شخص پر دشوار ہے، جو اس سے طبیعت میں گرانی رکھتا ہو۔ اور آسان ہے اس شخص پر جو اس کا متبع ہو۔ اور میری حدیث بھی اس شخص پر دشوار ہے، جو اس سے طبیعت میں کراہت رکھتا ہو۔ لیکن اپنے متبع پر آسان ہے۔ جس نے میری حدیث کو سنا سمجھا اور حفظ کیا۔ پھر اس پر عمل بھی کیا تو یہ حدیث روز قیامت قرآن کے ساتھ آئے گی۔ جس نے میری حدیث میں لاپرواہی کا ثبوت دیا اس نے قرآن میں بھی تساہل سے کام لیا اور جس نے قرآن و حدیث میں سستی و کاہلی برتی، اس نے دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھایا۔ (الخطیب فی الجامع بروایت الحکم بن عمیر الثمالی)