25215- "من كشف سترا فأدخل بصره في البيت قبل أن يؤذن له فرأى عورة أهله فقد أتى حدا لا يحل له أن يأتيه، ولو أنه حين أدخل بصره استقبله رجل ففقأ عينه ما عيرت عليه، وإن مر رجل على باب لا ستر له غير مغلق فنظر فلا خطيئة عليه إنما الخطيئة على أهل البيت". "ت عن أبي ذر"
25215 ۔۔۔ جس شخص نے پردہ ہٹا کر اجازت ملنے سے قبل اندر نظر ڈالی اور گھر والوں کی کوئی بےپردگی دیکھ لی اس سے ایسا کام سرزد ہوا جو اس کے لیے قطعا حلال نہیں تھا جس وقت اس نے اندر نظر ڈالی اگر کوئی شخص آگے سے اس کی آنکھ پھوڑ دے اس پر کوئی عیب نہیں ہوگا ، اگر کوئی شخص دروازے پر سے گزرا جس پر پردہ نہیں لٹکایا گیا تھا اور گزرنے والے نے اندر نظر ڈال دی اس پر کوئی گناہ نہیں چونکہ غلطی تو گھر والوں کی ہے۔ (رواہ الترمذی عن ابی ذر (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی 511 و ضعیف الجامع 5821)