25481- "من سره إذا رأته الرجال مقبلا أن يمثلوا له قياما فليتبوأ بيتا في النار". "طب وابن جرير، كر عن معاوية"؛ ولفظ كر: بنى الله له بيتا في النار.
25481 ۔۔۔ جو شخص اس پر خوش ہوتا ہو کہ لوگ اس کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجائیں وہ جہنم میں اپنا ٹھکابنالے۔ (رواہ الطبرانی وابن جریر وابن عساکر عن معاویۃ) ابن عساکر کے یہ الفاظ ہیں اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ دوزخ میں گھر بنا دے گا ۔۔ فائدہ : ۔۔۔ ” زیر اکمال “ آنے والی تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے لیے تعظیما کھڑے ہونا جائز بلکہ حرام ہے جبکہ مصنف (رح) کے قائم کردہ عنوان ” التعظیم والقیام “ سے تعظیما کھڑے ہونے کی اباحت معلوم ہوتی ہے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تعظیما کھڑے ہونا جائز ہے بشرطیکہ جس شخص کے لیے کھڑا ہونا ہے اس کی محبت اور تعظیم دل میں ہو اور وہ شخص فی نفسہ تعظیم کے قابل بھی ہو ، مسلمان ہو ، کافر نہ ہو یا اگر کھڑا نہ ہو اس کی دل شکنی ہوگی یا دشمن ہوجائے گا یا کوئی اور مصلحت ہو پھر بھی کھڑا ہونا جائز ہے۔ احادیث میں جو ممانعت ہے وہ اس صورت پر مجمول ہے کہ کوئی شخص بیٹھا رہے اور اس کی تعظیم میں لوگ کھڑے رہیں یا کوئی شخص دل سے چاہتا ہو کہ لوگ میرے آگے کھڑے ہوں ، بعض احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے کھڑے ہونے منع فرمایا ہے تو آپ نے تواضع سادگی اور بےتکلفی کی وجہ سے منع فرمایا ہے۔