25576- عن المدائني قال: قال علي بن أبي طالب: "لا تؤاخ الفاجر فإنه يزين لك فعله، ويحب لو أنك مثله، ويزين لك أسوأ خصاله، ومدخله عليك ومخرجه من عندك شين وعار، ولا الأحمق فإنه يجهد نفسه لك ولا ينفعك، وربما أراد أن ينفعك فيضرك، فسكوته خير من نطقه، وبعده خير من قربه، وموته خير من حياته، ولا الكذاب فإنه لا ينفعك معه عيش ينقل حديثك وينقل الحديث إليك وإن تحدث بالصدق فما يصدق". "الدينوري كر".
25576 ۔۔۔ مدائنی روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : فاجر (گناہ گار) سے دوستی مت رکھو چونکہ وہ تمہارے سامنے ملمع سازی کرے گا وہ چاہے گا کہ تم بھی اس جیسے ہوجاؤ وہ اپنی بری خصلتیں خوبصورت کرکے تمہارے سامنے پیش کرے گا اس کا تمہارے پاس آنا اور جانا باعث رسوائی اور عیب ہے بیوقوف کو دوست مت بناؤ وہ تمہارے سامنے خوب محنت و مجاہدہ سے کام لے گا مگر تمہیں نفع نہیں پہنچائے گا بسا اوقات تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نہیں نقصان پہنچا جائے گا اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کا دور رہنا اس کے قریب رہنے سے بہتر ہے اس کا مرجانا زندہ رہنے سے بہتر ہے ، جھوٹے شخص کو بھی دوست مت بناؤ چونکہ وہ تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتا وہ تمہاری باتیں دوسروں تک منتقل کرے گا اور دوسروں کی باتیں تمہارے پاس لائے گا اگر تکلف کرکے سچ بولنے کی کوشش کرے گا پھر بھی سچ نہیں بولے گا ۔ (رواہ الدینوری وابن عساکر)