25582- "من مسند رباح بن الربيع" "غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم وكان قد أعطى كل ثلاثة منا بعيرا يركبه اثنان ويسوقه واحد في الصحارى وننزل في الجبال فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أمشي فقال لي: "أراك يا رباح ماشيا؟ " فقلت: إنما نزلت الساعة، وهذان صاحباي قد ركبا فمر بصاحبي فأناخا بعيرهما ونزلا عنه، فلما انتهيت قالا: اركب صدر هذا البعير فلا تزال عليه حتى ترجع ونعتقب أنا وصاحبي قلت: ولم؟ قالا: قال رسول الله: "إن لكما رفيقا صالحا فأحسنا صحبته". "طب".
25582 ۔۔۔ ” مسند رباح بن ربیع “ رباح بن ربیع (رض) کہتے ہیں ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا آپ نے ہم میں سے ہر تین آدمیوں کو ایک اونٹ دیا تھا صحرا میں دو آدمی اونٹ پر سوار ہوتے اور تیسرا اسے ہانکتا تھا ہم پہاڑ میں جا اترے اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے جبکہ میں پیدل چل رہا تھا آپ نے فرمایا : اے رباح ! میں تجھے پیدل چلتا دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کہا : میں ابھی ابھی اترا ہوں جبکہ میرے یہ دو ساتھی سوار ہوئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے دو رفقائے سفر کے پاس سے گزرے انھوں نے اونٹ بٹھا دیا اور دونوں نیچے اتر آئے جب میں ان کے پاس پہنچا وہ بولے : اس اونٹ کے سینے پر (یعنی آگے) تم سوار ہوجاؤ تم برابر ہو گے تاوقتیکہ واپس لوٹ آؤ پیدل چلنے کی باری میرے اور میرے دوسرے ساتھی کے درمیان ہوگی میں نے پوچھا : بھلا یہ کیوں ؟ وہ بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رفیق سفر نیک و صالح آدمی ہے لہٰذا اس کے ساتھ اچھی رفاقت رکھو ۔ (رواہ الطبرانی)